مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں کی گئی تقریر کا متن جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس عراقی دارالحکومت بغداد میں 17 اکتوبر سے 18 اکتوبر تک جاری ہے۔
خطاب کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
جناب فؤاد محمد حسین، نائب وزیراعظم اور جمہوریہ عراق کے وزیر خارجہ!
جناب اسماعیل ولد شیخ احمد، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل!
خواتین و حضرات!
سب سے پہلے، میں اسلامی تعاون تنظیم کے اس اجلاس کی میزبانی اور پرتپاک مہمان نوازی پر اپنے پڑوسی اور برادر ملک جمہوریہ عراق کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اسی طرح اجلاس کی منصوبہ بندی اور انعقاد کے انتظامات پر تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور سیکریٹریٹ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایسی سرزمین پر جمع ہوئے ہیں جو قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں کے باہمی میل جول کا مرکز رہی ہے۔ یہ اجتماع ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالم اسلام میں اتحاد اور مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم اس مقصد کے تحت قائم کی گئی تھی کہ امت اسلامی کی مشترکہ آواز بلند کرنے، باہمی یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔
ہمارے درمیان مکالمے کا راستہ کھلا رکھنا کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
ہماری تنظیم کا منشور ایسے اصولوں پر مبنی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں ریاستوں کی خودمختار برابری، علاقائی سالمیت، داخلی امور میں عدم مداخلت، تنازعات کا پُرامن حل اور دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے اجتناب شامل ہیں۔
یہ اصول کسی ایک ملک یا ممالک کے کسی مخصوص گروہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ اصول ہم سب کا تحفظ کرتے ہیں، لیکن اگر ان پر انتخابی انداز میں عمل کیا جائے تو یہ اپنی قدر و اہمیت کھو دیتے ہیں۔
ایران بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سفارت کاری کے حوالے سے پابند اور ثابت قدم رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہم سفارت کاری کو آگے بڑھاتے رہے۔
اس کے برعکس، امریکہ نے جارحیت، دھمکیوں، دہشت گردی اور اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کیا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کو واضح طور پر نظرانداز کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے دوران تقریباً پانچ ہزار افراد شہید ہوئے، جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت نے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے رہبر انقلاب اسلامی اور دیگر اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں نشانہ بنایا۔
میناب میں 160 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کی شہادت، لامرد کے اسٹیڈیم پر کلسٹر بموں سے حملہ، قشم میں پانی میٹھا کرنے والے پلانٹ پر بمباری اور سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملہ، ایران کے خلاف امریکی۔صیہونی جنگی جرائم کی صرف چند مستند مثالیں ہیں۔
امریکہ اور صیہونی حکومت حقیقت کو الٹ پلٹ کرکے اور مظلوم کو ظالم کی جگہ دکھا کر ان جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔
میں ان رکن ممالک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ان مشکل دنوں میں ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ میں پوری تنظیم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے بانی ارکان میں سے ایک ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہو۔
ایران اپنے عوام، اپنی خودمختاری اور اپنے جائز مفادات کا دفاع کرے گا۔ تاہم، اپنے حقوق کا دفاع کرنے اور امن کے حصول کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ ہم جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ ہیں اور بالکل اسی وجہ سے امن کو اہمیت دیتے ہیں۔
ایران کسی خصوصی سلوک کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ سب کے لیے حقوق اور ذمہ داریوں کا یکساں اطلاق ہو۔
یہ مسئلہ میدان جنگ میں حل نہیں ہوگا۔ تباہی کی دھمکی دے کر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ اور پُرامن بحری آمدورفت کے لیے بھی پرعزم ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ہمارے بہت سے رکن ممالک کی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور 28 فروری 2026ء تک مکمل طور پر کھلی اور محفوظ تھی۔
اس وقت سے اب تک بحری آمدورفت میں عدم تحفظ اور خلل امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
ماضی کی غلطیوں اور جرائم کو دہرا کر سلامتی بحال نہیں کی جا سکتی۔ کسی ملک پر بمباری کرکے، اسے تباہ کرنے کی دھمکیاں دے کر اور اس کا محاصرہ کرکے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ بحری آمدورفت کی سلامتی معمول پر واپس آ جائے گی۔
درحقیقت، سفارت کاری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے تھے۔ پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور قطر کی حمایت سے، جو اس تنظیم کے رکن ہیں، ایران اور امریکہ نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس یادداشت کی شق نمبر 5 کے مطابق، ایران نے جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا عہد کیا تھا۔ ہم نے اس عہد پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر سلطنت عمان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات شروع کر دیے۔
دو ہفتوں کے اندر بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 60 فیصد تک بحال ہو گئی، لیکن امریکہ کے یک طرفہ اقدامات اور فوجی جارحیت نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کی، جبکہ اس میں تنازعات کے حل کے لیے طے شدہ طریقہ کار کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
ایران نے گزشتہ دو برسوں کے دوران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں، لیکن ہر بار سفارت کاری کے بجائے اسے فوجی حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس صورت حال نے مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے گہری بداعتمادی پیدا کر دی ہے، کیونکہ اس بات کی معتبر ضمانتیں موجود نہیں ہیں کہ یہ حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔
اس کے باوجود ایران نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ہم نے قطر کے ذریعے سات روزہ ایک واضح منصوبہ پیش کیا اور کہا کہ اگر ضروری شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور سات دن کے اندر بحری آمدورفت معمول پر واپس آ سکتی ہے۔
اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔
جناب صدر!
فلسطین کا مسئلہ اب بھی عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس اہم مسئلے کو نظرانداز کرکے امن کی بات نہیں کی جا سکتی۔
فلسطین آج بھی عالمی برادری کے ضمیر پر ایک زخم ہے اور غزہ نسل کشی کو روکنے میں بین الاقوامی نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
درجنوں قراردادیں قبضے اور تشدد کا خاتمہ نہیں کر سکیں۔ فلسطینی عوام کی مسلسل مشکلات، اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام اور قدس شریف اور اس کے مقدس مقامات کے خلاف دھمکیاں، ایسی صورت حال ہے جس پر ہم سب کو تشویش ہونی چاہیے۔
ایران فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے تمام ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قتل عام اور محاصرے کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام کریں اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کو مشترکہ ترجیح بنائیں۔ اس ترجیح کی پشت پناہی عملی اور مربوط اقدامات کے ذریعے کی جانی چاہیے۔
جناب صدر!
یمن کے عوام تقریباً ایک دہائی سے تباہ کن جنگ، غیرقانونی اور طویل محاصرے اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔
یمنی عوام کو درد و رنج میں مبتلا کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انسانی المیہ آج کے شدید ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور ان کے مرتکب افراد کو سزا نہیں دی جا رہی۔
ایران کا مؤقف واضح اور وہ ثابت قدم ہے۔ ہم یمن اور سعودی عرب کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع اور تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنے والے سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہی واحد عملی اور پائیدار راستہ ہے۔
فوجی کشیدگی میں اضافے، جبر و دھونس یا یمن کے متعلقہ فریقوں کو نظرانداز کرنے سے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
علاقائی بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ سیاسی حل کو نظرانداز کرتے ہوئے فوجی راستے پر اصرار صرف صورت حال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
ایران جزیرہ نمائے عرب میں ہونے والی پیش رفت پر گہری تشویش رکھتا ہے اور فریقین کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ مدد امن کے اس لائحۂ عمل کی بنیاد پر فراہم کی جا سکتی ہے جس پر پہلے ہی اتفاق کیا جا چکا ہے۔
یمن کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وقار کے ساتھ اور دباؤ، پابندیوں اور محاصرے سے آزاد ہو کر زندگی گزاریں۔
کوئی بھی حکومت دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر پائیدار سلامتی قائم نہیں کر سکتی۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے خطے کے مسائل خود علاقائی ممالک کو خطے کے اندر ہی حل کرنے چاہییں، اس سے پہلے کہ یہ مسائل دور دراز طاقتوں کی جنگوں کا بہانہ بن جائیں۔
اسی سوچ کے تحت ہمارا یقین ہے کہ خطے کے ہر ملک کی سرزمین، فضائی حدود اور بنیادی ڈھانچے کو صرف علاقائی سلامتی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور انہیں کبھی بھی کسی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے لیے اڈے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
ہم یہ بات برادرانہ جذبے اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت کہہ رہے ہیں۔ ہمارے عوام ایک ہی خطے اور ایک ہی مستقبل میں شریک ہیں۔ ہمارے سامنے انتخاب سادہ ہے: یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا مل کر عدم تحفظ کے نتائج برداشت کریں گے۔
ایران پہلے راستے کو اختیار کرنے کے لیے اپنے تمام برادر ممالک اور پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران جبر، دھمکی اور خوف زدہ کرنے کی پالیسی کو قبول نہیں کرتا اور دباؤ کے تحت اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ تاہم، ایران باہمی احترام اور معتبر ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے۔
ایک بار پھر، میں میزبانی پر عراق کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ اجلاس امت اسلامی کے اتحاد، امن، سلامتی اور خوش حالی کے لیے کامیاب ثابت ہو۔
آپ سب کا شکریہ!
آپ کا تبصرہ